🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2034. -- باب: التلبية حتى يرمي جمرة العقبة بأول حصاة ثم يقطع
-- باب: جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ پڑھنے اور پھر اسے روک دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9605
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ عَلَيْهِ مِسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ فَقَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلِيَّ، فَقَالَ:" جَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ" وَقَدْ رُوِّينَا مَعْنَى هَذَا مُخْتَصَرًا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر دیہاتیوں جیسی جھلک تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انہوں نے کہا: اے اعرابی! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے، تو اس وقت انہوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا: لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9605]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه 2806۔ حاكم 1/ 632»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9605 in Urdu