🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2036. -- باب: الخطبة يوم النحر وأن يوم النحر يوم الحج الأكبر
-- باب: قربانی کے دن خطبہ دینے اور اس بات کا بیان کہ قربانی کا دن حجِ اکبر کا دن ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9614
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَرَجُلٌ أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، ⦗٢٢٨⦘ فَقَالَ:" أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَوَلَيْسَ ذَا الْحَجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَتِ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا اللهُمَّ هَلْ بَلِّغْتُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر والے دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے آپ اس کو کوئی نیا نام دیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ یومِ نحر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا شاید اس کا کوئی نیا نام رکھیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خون تمہارے اس دن میں، اس مہینے میں، اس شہر کی حرمت کی طرح محترم ہیں، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو حاضر ہے وہ غیر حاضر تک پہنچا دے، کتنے ہی وہ لوگ ہیں جن کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں، خبردار! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1654۔ مسلم 1679»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9614 in Urdu