السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2037. -- باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9622
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ:" انْحَرْ وَلَا حَرَجَ" قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ أَوْ أَخَّرَهُ إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِزِيَادَةٍ أُخْرَى.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈانا ہے تو میں نے ایسا ہی کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر اور کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسرا آدمی آیا اور پوچھا: میں سمجھتا تھا کہ سر منڈانا قربانی سے پہلے ہے تو میں نے ایسا ہی کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر لے کوئی بات نہیں“، کہتے ہیں کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی کام کو پہلے یا بعد میں کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کر لے کوئی بات نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9622]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دارقطني 2/ 251۔ بزار 2418»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9622 in Urdu