السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2037. -- باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَقَالَ آخَرُ: إِنِّي رَمَيْتُ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَمَا عَلِمْتُهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ:" لَا حَرَجَ" وَلَمْ يَأْمُرْ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَةِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ دوسرے نے کہا: میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ تو اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اور کسی کفارے کا حکم نہیں دیا۔
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9626]
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9626]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9626 in Urdu