السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2037. -- باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ:" لَا حَرَجَ".
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمی کر کے لوگوں کے لیے بیٹھ گئے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے نحر کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ پھر دوسرا آیا تو اس نے کہا: میں نے رمی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ”کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ماجه 3053۔ احمد 3/ 326»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9630 in Urdu