السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2041. -- باب: سقاية الحاج والشرب منها ومن ماء زمزم
-- باب: حاجیوں کو پانی پلانے، اور اس سے اور آبِ زمزم سے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9653
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ:" اسْقِنِي"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، قَالَ:" اسْقِنِي" فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ:" اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمِلٍ صَالِحٍ" ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ" يَعْنِي عَاتِقَهُ وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی پلانے والوں کی طرف آئے اور پانی طلب کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فضل! جا اور جا کر اپنی ماں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشروب لے کر آ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پلا“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پلا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم پر آئے اور وہ پلا رہے تھے اور اس میں کام کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگے رہو تم نیک کام کر رہے ہو“، پھر فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہو کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں اترتا اور رسی کو یہاں رکھتا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9653]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1554»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9653 in Urdu