🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2041. -- باب: سقاية الحاج والشرب منها ومن ماء زمزم
-- باب: حاجیوں کو پانی پلانے، اور اس سے اور آبِ زمزم سے پانی پینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ إِلَى أَنْ قَالَ:" فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ، ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَأَتَيْتُهُ وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَالَ:" مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا؟" قُلْتُ: قَدْ كُنْتُ هَا هُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَيَوْمًا، قَالَ:" فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟" قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى ⦗٢٤١⦘ تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کا قصہ سنایا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے سلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم یہاں کب سے ہو؟“ میں نے کہا: میں یہاں تیس دن اور رات سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہیں کھانا کون کھلاتا تھا؟“ میں نے کہا: میرا کھانا صرف آب زمزم تھا، میں موٹا تازہ ہو گیا حتیٰ کہ میرے پیٹ کا عکن (سلوٹیں) ٹوٹنے لگا اور میں نے ذرا بھی بھوک محسوس نہیں کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بابرکت ہے، یہ کھانے کا کھانا اور بیماری کی شفا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9659]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 3473»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9659 in Urdu