السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2044. -- باب: تأخير الرمي عن وقته حتى يمسي
-- باب: رمی کو اس کے وقت سے شام تک مؤخر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9670
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَقَالَ الْآخَرُ: إِنِّي رَمَيْتُ بَعْدَمَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَمَا عَلِمْتُهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ:" لَا حَرَجَ"، وَلَمْ يَأْمُرْ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَةِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، ایک دوسرے نے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کوئی حرج نہیں“ کے علاوہ کوئی اور جواب دیا ہو اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کچھ کفارہ دینے کو کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9670]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 84 آخري جمله كي علاوه، اس آخري جمله پر كلام حديث نمبر: 9626 مين گزر چكي هي۔»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9670 in Urdu