السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2047. -- باب: خطبة الإمام بمنى أوسط أيام التشريق
-- باب: ایامِ تشریق کے درمیانی دن منیٰ میں امام کے خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9681
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ النُّعْمَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو ⦗٢٤٧⦘ عَاصِمٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِيِّ، حَدَّثَتْنِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ، وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" هَلْ تَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قَالَ: وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي يَدْعُونَ يَوْمَ الرُّءُوسِ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" هَذَا أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، هَلْ تَدْرُونَ أِيَّ بَلَدٍ هَذَا؟" قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ" ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلَكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ.
سراء بنت نہبان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں یہ کہتے ہوئے سنا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ اور یہ وہ دن تھا جسے «یَوْمُ الرُّؤُوسِ» (یوم الرؤس) کہا جاتا تھا، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایام تشریق کا درمیانی دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ» (مشعر حرام) ہے“، پھر فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں شاید میں تمہیں اس کے بعد مل سکوں یا نہ، خبردار! تمہارے مال، خون اور عزتیں تم پر تمہارے اس شہر میں اس دن کی طرح حرام ہیں حتیٰ کہ تم اپنے رب سے جا ملو تو وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا، خبردار! تمہارے قریب والے دور والے تک یہ بات پہنچا دیں، خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہی مدت بعد وفات پا گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9681]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 1953۔ ابن خزيمه 2973۔ طبراني كبير 777۔ طبراني اوسط: 2430۔ ربيعه مجهول الحال هي»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9681 in Urdu