السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2056. -- باب: دخول البيت والصلاة فيه
-- باب: بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، وَبِلَالٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا"، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ" وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" عَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ" وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ كَمَا رُوِّينَا، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ" عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ" وَهُوَ الصَّحِيحُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا عثمان بن طلحہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر لیا اور اس میں ٹھہرے، جب نکلے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون اپنے بائیں اور دو دائیں کیے اور تین ستون کے پیچھے پھر نماز پڑھی۔ ان دنوں کعبہ کے چھ ستون ہوتے تھے۔ [صحیح: بخاری: 483، مسلم: 1329]
اسی کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے مگر اس نے کہا کہ دو ستون بائیں جانب رکھے۔
اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے ایک جگہ کہا ہے اور ایک جگہ کہا ہے کہ دوسرا ستون دائیں جانب اور ایک ستون بائیں جانب تھا۔
اسی طرح عبداللہ بن یوسف رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے قعنبی رحمہ اللہ کے واسطہ سے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، جبکہ ابن ابی اویس رحمہ اللہ اور یحییٰ بن بکیر رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہم نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ دو ستون دائیں اور ایک ستون بائیں جانب اور یہی بات صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9719]
اسی کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے مگر اس نے کہا کہ دو ستون بائیں جانب رکھے۔
اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے ایک جگہ کہا ہے اور ایک جگہ کہا ہے کہ دوسرا ستون دائیں جانب اور ایک ستون بائیں جانب تھا۔
اسی طرح عبداللہ بن یوسف رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے قعنبی رحمہ اللہ کے واسطہ سے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، جبکہ ابن ابی اویس رحمہ اللہ اور یحییٰ بن بکیر رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہم نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ دو ستون دائیں اور ایک ستون بائیں جانب اور یہی بات صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9719]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9719 in Urdu