السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2056. -- باب: دخول البيت والصلاة فيه
-- باب: بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9722
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ يَعْنِي مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَاتَلَهُمُ اللهُ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ" قَالَ: فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عِمْرَانَ، وَحَدِيثُ الْقَاضِي مُخْتَصَرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، ثُمَّ نَزَلَ وَلَمْ يُصَلِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَالْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ قَالَ: صَلَّى؛ لِأَنَّهُ شَاهِدٌ وَالَّذِي قَالَ: لَمْ يُصَلِّ لَيْسَ بِشَاهِدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو انہوں نے بیت اللہ میں اس وقت تک داخل ہونے سے انکار کر دیا جب تک اس میں بت رکھے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان بتوں کو نکالا گیا تو وہاں سے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکلے جن کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی کے تیر تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کو ہلاک کرے، اللہ کی قسم! یہ لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے کبھی ان کے ساتھ قسمت آزمائی نہیں کی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس کے کونوں میں تکبیر کہی اور اس میں نماز نہیں پڑھی۔ یہ ابو عمران کی حدیث کے الفاظ ہیں اور قاضی کی حدیث مختصر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے، ان کے کونوں میں تکبیر کہی، پھر اترے اور نماز نہیں پڑھی۔
اور درست بات اسی کی ہے جس نے یہ کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، کیونکہ وہ شاہد ہے اور جس نے یہ کہا ہے کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی وہ گواہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9722]
اور درست بات اسی کی ہے جس نے یہ کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے، کیونکہ وہ شاہد ہے اور جس نے یہ کہا ہے کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی وہ گواہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1524»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9722 in Urdu