🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2065. -- باب: من كره أن يقال للمحرم: صفر، وأن النسيء من أمر الجاهلية
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے ماہِ محرم کو ”صفر“ کہنے کو مکروہ قرار دیا، اور اس بات کا بیان کہ نسیء (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) ایامِ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9773
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بِذَلِكَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ" ثُمَّ قَالَ:" أِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ⦗٢٧١⦘ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ" قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ:" وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضُ مَنْ يَبْلُغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ" ثُمَّ قَالَ:" أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" لَمْ يَسُقِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مَتْنَهُ وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے، جس دن اللہ رب العزت نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ سال بھر میں بارہ مہینے ہیں: چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب قبیلہ مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کرلیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ خاص شہر یعنی مکہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خون و اموال،“ راوی محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور مہینہ کے اندر ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، یعنی قتل کرو۔ خبردار! حاضر غائب تک یہ بات پہنچا دے۔ شاید کہ جس کو بات پہنچی ہے وہ زیادہ یاد رکھے سننے والے سے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ متن بیان نہیں کیا۔
(ب) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ گھوم آیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9773]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3025۔ مسلم1679»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9773 in Urdu