السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2075. -- باب: إدراك الحج بإدراك عرفة قبل طلوع الفجر من يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کی فجر طلوع ہونے سے پہلے وقوفِ عرفہ پا لینے سے حج پا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9812
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ"، أَوْ" تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ".
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”حج عرفہ کا ہی نام ہے، جس نے وقوفِ عرفہ کو طلوعِ فجر سے پہلے پا لیا اس نے حج کو پا لیا یا اس کا مکمل ہوگیا اور منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو پہلے دو دنوں میں جلدی کرلیتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو مؤخر کر دے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9812]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 2985»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9812 in Urdu