🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2075. -- باب: إدراك الحج بإدراك عرفة قبل طلوع الفجر من يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کی فجر طلوع ہونے سے پہلے وقوفِ عرفہ پا لینے سے حج پا لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9814
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَزَكَرِيَّا، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ فَوَاللهِ مَا جِئْتُ حَتَّى ⦗٢٨٣⦘ أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي وَمَا تَرَكْتُ مِنْ هَذِهِ الْجِبَالِ شَيْئًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانَ قَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ" قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ زَكَرِيَّا فِيهِ وَكَانَ أَحْفَظَ الثَّلَاثَةِ لِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَيْتُ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ قَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ:" مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى يُفِيضَ، وَكَانَ قَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ.
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آیا ہوں، قسم بخدا! میں اپنے آپ کو تھکا کر آیا ہوں اور اپنی سواری کو بھی۔ میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر میں نے اس پر ضرور وقوف کیا ہے۔ کیا میرے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ مزدلفہ میں نماز فجر میں ہمارے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے اور اس نے وقوف عرفہ دن یا رات کے حصہ میں کیا ہوا ہے، اس کا حج مکمل ہو گیا اور میل کچیل ختم ہو گئی۔“ سفیان کہتے ہیں کہ زکریا نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے، وہ تینوں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت طی کے پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری اور اپنے آپ کو بھی تھکا دیا ہے، کیا میرے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ وہ (مزدلفہ سے) روانہ ہو اور رات و دن کے حصہ میں عرفہ کے اندر وقوف کیا اس کا حج مکمل ہو گیا، گندگی دور ہو گئی۔“ سفیان کہتے ہیں کہ داود بن ابی ہند نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب فجر طلوع ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9814]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1960۔ ابن ماجه 3016»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9814 in Urdu