🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2099. -- باب: ما يأكل المحرم من الصيد
-- باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ، وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَرَكِبْتُ فَأَخَذْتُ رُمْحِي فَسَقَطَتْ سَوْطِي فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: نَاوِلُونِي، وَكَانُوا مُحْرِمِينَ فَقَالُوا: لَا وَاللهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَتَنَاوَلْتُ سَوْطِي، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ ⦗٣٠٧⦘ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.
ابو محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم قاحہ نامی جگہ پر آئے تو ہمارے بعض ساتھی محرم تھے اور بعض غیر محرم تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں، میں نے بھی دیکھا تو وہ نیل گائے تھی۔ میں نے گھوڑے کی زین کسی اور میں سوار ہو گیا، میں نے اپنا نیزہ پکڑ لیا اور کوڑا گر گیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے پکڑا دو اور وہ محرم تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تیری مدد ہرگز نہ کریں گے۔ میں نے اپنا کوڑا پکڑا، پھر گدھے کے پیچھے ہو لیا، جو ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، میں نے اس کو نیزہ مارا اور میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ میں اس کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، بعض تو کہنے لگے: کھالو اور بعض نے کہا: مت کھاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال ہے، تم کھالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1727»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9907 in Urdu