🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2099. -- باب: ما يأكل المحرم من الصيد
-- باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9909
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، قَالَ: فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى فَرَسِي فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُهُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا وَرَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ أَجُرُّهُ قَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَّأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَكَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى تَعَرَّقَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ کے راستے پر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے۔ لوگ حالتِ احرام میں تھے اور میں محرم نہ تھا۔ لوگوں نے نیل گائے دیکھی اور میں اپنی جوتی سی رہا تھا۔ انہوں نے مجھے اطلاع نہ دی۔ میں نے اچانک دیکھا تو میں اپنے گھوڑے کی طرف کھڑا ہوا اور زین کسی اور سوار ہو گیا اور اپنے کوڑے اور نیزے کو بھول گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا کوڑا اور نیزہ پکڑا دو۔ انہوں نے کہا: ہم تیری کچھ بھی مدد نہ کریں گے۔ میں نے نیچے اتر کر پکڑ لیا اور مضبوطی سے سوار ہوا۔ میں نے اس کو قتل کر دیا اور کھینچ کر اس کو لے کر آیا وہ مر گئی۔ وہ اس میں واقع ہو گئے۔ اس کو کھا رہے تھے۔ پھر ان کو اپنے کھانے میں شک گزرا؛ کیونکہ وہ محرم تھے۔ ہم چلے اور میں نے اس کا ایک بازو چھپا لیا۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچے اور اس کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز اس سے ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بازو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا؛ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی سے گوشت کو اتارا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9909]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2431»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9909 in Urdu