السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2104. -- باب: ما جاء في حرم المدينة
-- باب: مدینہ منورہ کے حرم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 9961
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا" وَقَالَ:" الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَخْرُجُ عَنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی شکار قتل کیا جائے“ اور فرمایا: ”مدینہ ان کے لیے بہتر ہے، اگر وہ جانتے اور جو کوئی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکلے تو اللہ اس کی جگہ اس سے بہتر شخص کو یہاں لے آئے گا اور جو کوئی اس کی تنگی اور مشقت برداشت کرتے ہوئے اس میں ٹھہرا رہتا ہے، میں قیامت کے دن اس کا گواہ یا سفارشی ہوں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9961]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1361»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9961 in Urdu