السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2114. -- باب: من قال: يحل الصيد بالتحلل الأول، ومن قال: لا يحل
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے فرمایا: ”پہلے تحلل (حلال ہونے) سے شکار کرنا حلال ہو جاتا ہے“، اور جنہوں نے فرمایا: ”حلال نہیں ہوتا“۔
حدیث نمبر: 9999
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، يَعْنِي الْعُرَنِيَّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكَ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَيَتَطَيَّبُ؟ قَالَ:" أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ" أَوْ قَالَ:" بِالسُّكِّ أَفَطِيبٌ ذَلِكَ أَمْ لَا؟".
حسن عرنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ رمی جمار کر لیں تو آپ کے لیے ہر چیز جائز ہے سوائے عورتوں کے، جب تک آپ بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں۔ ایک آدمی نے کہا: کیا وہ خوشبو لگا لے؟ انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ سر پر کستوری کا لیپ کرتے تھے، یا فرمایا: سُک (ایک خوشبو) کا، تو کیا یہ خوشبو ہے یا نہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9999]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9999 in Urdu