🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
64. بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ .
سونے سے وضو لازم ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1287
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ نَامَ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ، فَإِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ، وَلَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بیٹھے ہوئے سو جائے، اُس پر وضو لازم نہیں ہو گا، لیکن جب وہ اپنا پہلو (زمین پر) رکھ دے، تو اُس پر وضو لازم ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس سے صالح احادیث منقول ہیں، یہ جان بوجھ کر جھوٹ بیان نہیں کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1287]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 1287 in Urdu