🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
74. بَابٌ .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14252
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ مَوْعُوكًا، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ قَالَ:" خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ". فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِنْبَرِ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" صِحْ فِي النَّاسِ". فَصِحْتُ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعَ نَاسٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ دَنَا مِنِّي حُقُوقٌ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ ; فَمَنْ كُنْتُ جَلَدْتُ لَهُ ظَهْرًا فَهَذَا ظَهْرِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ، أَلَا وَمَنْ كُنْتُ قَدْ شَتَمْتُ لَهُ عِرْضًا فَهَذَا عِرْضِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ، وَمَنْ كُنْتُ أَخَذْتُ لَهُ مَالًا فَهَذَا مَالِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ، لَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ: إِنِّي أَخْشَى الشَّحْنَاءَ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا وَإِنَّ الشَّحْنَاءَ لَيْسَتْ مِنْ طَبِيعَتِي وَلَا مِنْ شَأْنِي، أَلَا وَإِنَّ أَحَبَّكُمُ إِلَيَّ مَنَ أَخَذَ حَقًّا إِنْ كَانَ لَهُ، أَوْ حَلَّلَنِي، فَلَقِيتُ اللَّهَ وَأَنَا طَيِّبُ النَّفْسِ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ مُغْنِيًا عَنِّي حَتَّى أَقُومَ فِيكُمْ مِرَارًا". ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَعَادَ لِمَقَالَتِهِ فِي الشَّحْنَاءِ أَوْ غَيْرِهَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَرُدَّهُ، وَلَا يَقُلْ: فُضُوحُ الدُّنْيَا، أَلَا وَإِنَّ فُضُوحَ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ". فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ. قَالَ:" أَمَا إِنَّا لَا نُكَذِّبُ قَائِلًا، وَلَا نَسْتَحْلِفُهُ، فَبِمَ صَارَتْ لَكَ عِنْدِي؟". قَالَ: تَذْكُرُ يَوْمَ مَرَّ بِكَ مِسْكِينٌ فَأَمَرْتَنِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِ؟ فَقَالَ:" ادْفَعْهَا إِلَيْهِ يَا فَضْلُ". ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ: عِنْدِي ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ غَلَلْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ:" وَلِمَ غَلَلْتَهَا؟". قَالَ: كُنْتُ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا. قَالَ:" خُذْهَا يَا فَضْلُ". ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ خَشِيَ مِنْ نَفْسِهِ شَيْئًا فَلْيَقُمْ أَدْعُ لَهُ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَكَذَّابٌ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ، وَإِنِّي لَنَؤُومٌ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا، وَإِيمَانًا، وَأَذْهِبْ عَنْهُ النَّوْمَ إِذَا أَرَادَ". ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَكَذَّابٌ، وَإِنِّي لَمُنَافِقٌ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ إِلَّا وَقَدْ أَتَيْتُهُ! فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا هَذَا فَضَحْتَ نَفْسَكَ! قَالَ:" مَهْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فُضُوحُ الدُّنْيَا أَيْسَرُ مِنْ فُضُوحِ الْآخِرَةِ". ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ صِدْقًا، وَإِيمَانًا، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى خَيْرٍ".
فَكَلَّمَهُمْ عُمَرُ بِكَلِمَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عُمَرُ مَعِي، وَأَنَا مَعَهُ، وَالْحَقُّ بَعْدِي مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ جَبَانٌ، كَثِيرُ النَّوْمِ. قَالَ: فَدَعَا لَهُ. قَالَ الْفَضْلُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَشْجَعَنَا، وَأَقَلَّنَا نَوْمًا. قَالَ: ثُمَّ أَتَى بَيْتَ عَائِشَةَ، فَقَالَ لِلنِّسَاءِ مِثْلَ مَا قَالَ لِلرِّجَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَمَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَلْيَسْأَلْنَا نَدْعُ لَهُ". قَالَ: فَأَوْمَأَتِ امْرَأَةٌ إِلَى لِسَانِهَا قَالَ: فَدَعَا لَهَا. قَالَ: فَلَرُبَّمَا قَالَتْ لِي: يَا عَائِشَةُ، أَحْسِنِي صَلَاتَكِ.
وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں نکل کر آپ کے پاس گیا، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بیمار ہیں اور آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فضل! میرا ہاتھ پکڑ لو، میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا، یہاں تک کہ آپ منبر کے پاس تشریف لائے، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کو میرے پاس آنے کے لئے اعلان کر دو، میں نے لوگوں میں جا کے اعلان کیا تو لوگ اکٹھے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم لوگوں کے درمیان کچھ ایسے امور ہو سکتے ہیں، جو میرے ذمہ لازم ہو چکے ہوں، تو جس شخص کی پشت پر میں نے کوڑا مارا ہو، تو یہ میری پشت موجود ہے، وہ بدلہ لے، خبردار! کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا: ہو، تو یہ میری عزت موجود ہے، وہ بدلہ لے، جس شخص سے میں نے مال لیا ہو، تو یہ مال موجود ہے، وہ بدلہ لے، کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے: کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی ناراضگی کا اندیشہ بے، خبردار! ناراضگی رکھنا، میری طبیعت کا حصہ نہیں ہے، اور نہ ہی میری شان ہے، خبردار! تم میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب وہ شخص ہو گا، جو حق وصول کر لے، اگر اس کا حق بنتا ہو، یا پھر یہ ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے، تاکہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں، تو میں مطمئن ہوؤں، خبردار! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ چیز میرے لئے کفایت کرے گی، جب تک میں تمہارے درمیان بار بار کھڑا نہیں ہوتا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ منبر پر گئے اور آپ نے وہی بات دہرائی جو ناراضگی کے بارے میں اور دیگر امور کے بارے میں تھی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! جس شخص کے پاس کوئی چیز ہو، وہ اسے واپس کر دے اور یہ نہ کہے کہ یہ دنیا کی رسوائی ہے، خبردار! دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے زیادہ آسان ہے، تو ایک صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے آپ کے ذمہ تیس درہم ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم کسی بات کرنے والے کو جھوٹا قرار نہیں دیں گے، اور نہ ہی کسی سے حلف لیں گے، تم یہ بتاؤ وہ میرے پاس کس حوالے سے آئے تھے؟ تو اس نے کہا: آپ وہ دن یاد کریں، جب ایک غریب آدمی آپ کے پاس سے گزرا، تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کو یہ رقم دے دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فضل! تم اسے وہ رقم دے دو، پھر ایک اور صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: میرے پاس تین درہم ہیں، جو میں نے اللہ کی راہ میں خیانت کے طور پر حاصل کیے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے وہ خیانت کے طور پر کیوں حاصل کیے تھے؟ اس نے عرض کی: مجھے ان کی ضرورت تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فضل! تم وہ وصول کر لو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! جس شخص کو اپنی ذات کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو، وہ کھڑا ہو جائے، تو میں اس کے لئے دعا کر دوں گا، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں جھوٹ بہت بولتا ہوں اور میں منافقت بھی کرتا ہوں اور میں سویا بھی رہتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! تو اسے سچائی اور ایمان عطا کر دے اور اس سے نیند کو لے جا، جب یہ ارادہ کرے (یعنی یہ جب چاہے، بیدار ہو سکے)۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جھوٹ بولتا ہوں اور منافقت کرتا ہوں اور جتنے بھی امور ہیں، میں اُن سب کا ارتکاب کرتا ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے اپنے آپ کو رسوائی کا شکار کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب رک جاؤ! دنیا کی رسوائی، آخرت کی رسوائی سے آسان ہے، پھر آپ نے دعا کی: اے اللہ! تو اس کو سچائی اور ایمان نصیب کر دے اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف تبدیل کر دے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ کچھ بات چیت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر میرے ساتھ ہے، اور میں اس کے ساتھ ہوں اور میرے بعد حق، عمر کے ساتھ ہو گا، یہ جہاں بھی ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے، انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک بزدل شخص ہوں، جو زیادہ تر سویا رہتا ہے، راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بعد میں، میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ ہم سب سے زیادہ بہادر تھا اور ہم سب سے کم سوتا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، آپ نے خواتین سے بھی اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی، جو آپ نے مردوں سے فرمائی تھی اور پھر آپ نے فرمایا: جس پر کوئی چیز غالب ہو، وہ ہم سے کہے، ہم اس کے لئے دعا کریں گے، راوی کہتے ہیں: تو ایک خاتون نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے لئے دعا کی، راوی بیان کرتے ہیں: حالانکہ اس عورت نے چند مرتبہ مجھ سے یہ کہا: اے عائشہ! تم نماز اچھے طریقے سے ادا کیا کرو۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی عطاء بن مسلم ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14252]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6824) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/18)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن

Majma al-Zawa'id Hadith 14252 in Urdu