مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 14255
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَتَشَاوَرَ نِسَاؤُهُ فِي لَدِّهِ فَلَدُّوهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقُلْنَا: هَذَا فِعْلُ نِسَاءٍ جِئْنَ مِنْ هَاهُنَا. وَأَشَارَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَكَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ فِيهِنَّ. قَالُوا: كُنَّا نَتَّهِمُ بِكَ ذَاتَ الْجَنْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ،. قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَدَاءٌ مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيَقْذِفَنِي بِهِ، لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ لَا يَلِدُّ إِلَّا عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -". يَعْنِي الْعَبَّاسَ قَالَتْ: لَقَدِ الْتَدَّتْ مَيْمُونَةُ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ لِعَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا، آپ کی بیماری شدید ہو گئی، تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی، آپ کی ازواج نے باہمی مشورے سے یہ طے کیا کہ آپ کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے، انہوں نے آپ کے منہ میں دوا ٹپکائی، جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا: یہ کس نے کیا ہے؟ ہم نے عرض کی: یہ ان خواتین نے کیا ہے جو اس طرف سے آئی ہیں، انہوں نے حبشہ کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان خواتین میں شامل تھیں، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں آپ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں آپ کو ذات الجنب کی شکایت نہ ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ ایک ایسی بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں مبتلا نہیں کرے گا، اب گھر میں موجود شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے، البتہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا معاملہ مختلف ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں: تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس دن اپنے منہ میں دوا ٹپکائی، حالانکہ وہ روزہ رکھے ہوئے تھیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الخلافہ میں گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14255]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الخلافہ میں گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14255]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (346/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
Majma al-Zawa'id Hadith 14255 in Urdu