مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. بَابُ وَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 14779
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيٍّ وَكَانَ مَرِيضًا، فَقَالَ لَهُ أَبِي: مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ لَوْ هَلَكْتَ بِهِ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ، فَلَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ كُنْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ، فَإِنْ أَصَابَكَ مَا تَخَافُ أَوْ نَخَافُ عَلَيْكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ. وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنِّي لَسْتُ مَيِّتًا مِنْ مَرَضِي هَذَا - أَوْ مِنْ وَجَعِي هَذَا - إِنَّهُ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى - أَحْسَبَهُ - قَالَ: أُضْرَبُ أَوْ تُخَضَّبُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ - يَعْنِي ضَارِبَهُ - فَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَهُ بِصِفِّينَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
فضالہ بن ابوفضالہ انصاری بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا، وہ بیمار تھے، میرے والد نے ان سے فرمایا: آپ اس جگہ پر کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں، اگر آپ یہاں ہلاکت کا شکار ہو گئے تو صرف جہینہ قبیلے کے دیہاتی لوگ ہی آپ کے کفن دفن کا انتظام کر سکیں گے، اور اگر آپ شہر میں داخل ہو جائیں گے تو آپ اپنے ساتھیوں کے درمیان موجود رہیں گے، اگر آپ کو کوئی چیز لاحق ہوئی، جس کا آپ کو اندیشہ ہے، یا ہمیں آپ کے حوالے سے کسی چیز کا اندیشہ ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے، راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے ایک تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں اپنی اس بیماری کی وجہ سے نہیں مروں گا (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) میں اپنی اس تکلیف کی وجہ سے نہیں مروں گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب تک مجھے ضرب نہیں لگائی جائے گی اور یہ اس کے ذریعے رنگین نہیں ہو جائے گی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14779]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14779]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 14779 in Urdu