🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
77. بَابُ وَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14782
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَيْعٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَقُولُ: لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَمَا يَنْتَظِرُ بِيَ الْأَشْقَى؟ قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ قَالَ: إِذًا تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي. قَالُوا: فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا قَالَ: لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: فَمَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ، ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ ؛ فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَيْعٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.
عبداللہ بن سبیع بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: یہ اس کے ذریعے رنگین ہو جائے گی اور میرا انتظار صرف بدنصیب ترین شخص کرے گا، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے، ہم اس کی نسل ہی فنا کر دیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسی صورت میں تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرو گے، لوگوں نے کہا: آپ ہم پر کسی کو اپنا نائب مقرر کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ دوں گا، جس طرح کی صورت حال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو چھوڑا تھا، لوگوں نے دریافت کیا: جب آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جائیں گے، تو آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیا کہیں گے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یہ کہوں گا کہ اے اللہ! تو نے مجھے ان کے درمیان اس وقت تک رہنے دیا جب تک تو نے مناسب سمجھا، پھر تو نے مجھے اپنی طرف قبض کر لیا، لیکن تو ان کے درمیان موجود ہے، اگر تو چاہے، تو ان کو ٹھیک رکھ اور اگر تو چاہے تو انہیں خراب کر دے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن سبیع کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14782]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (590) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1078)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح

Majma al-Zawa'id Hadith 14782 in Urdu