🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
99. بَابٌ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِنَ الْفَضْلِ .
اس چیز کا بیان، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15071
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا: أَنَّ مَرْوَانَ أَتَاهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، قَالَ: فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، وَهَمَا مَعَ أُمِّهِمَا، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَا شَأْنُ ابْنَيَّ؟". فَقَالَتْ: الْعَطَشُ، قَالَ: فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، فَنَادَى:" هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ؟". فَلَمْ يُبْقِ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كَلَامِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا". فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ، فَأَخَذَهُ، فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَضْغُو مَا يَسْكُتُ، فَأَدْلَعَ لِسَانَهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلِينِي الْآخَرَ". فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ، فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ، فَسَكَتَا فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُمَا صَوْتًا، ثُمَّ قَالَ:" سِيرُوا". فَصَدَعْنَا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعَائِنِ، حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی اس بیماری کے دوران، جس میں ان کا انتقال ہوا، مروان ان کے پاس آیا، مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے آپ پر کسی چیز کے حوالے سے بھی غصہ نہیں ہے، جب سے ہم ساتھ رہے ہیں، صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم راستے میں کسی جگہ تھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، وہ دونوں رو رہے تھے وہ دونوں اپنی والدہ کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے ان دونوں کے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے بچوں کا کیا معاملہ ہے؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: پیاس لگی ہوئی ہے، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں سے پانی حاصل کریں، پانی اس وقت موجود نہیں تھا، لوگ پانی کی تلاش میں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکار کر کہا: کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے، تو ہر شخص نے اپنا ہاتھ اپنے مشکیزے کی طرف بڑھایا تاکہ اس میں پانی تلاش کرے، لیکن کسی شخص کو ایک قطرہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ان دونوں میں سے ایک کو مجھے پکڑا دو، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ایک صاحبزادے کو پکڑایا، میں نے ان کی کلائی کی سفیدی دیکھی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحبزادے کو پکڑا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادے کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ لگایا، وہ صاحبزادے رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان باہر نکالی اور ان صاحبزادے نے اسے چوسنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گئے، پھر میں نے ان کے رونے کی آواز نہیں سنی، دوسرے صاحبزادے پہلے کی طرح ہی رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرے کو مجھے پکڑاؤ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے صاحبزادے آپ کو پکڑائے تو آپ نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ وہ دونوں خاموش ہو گئے اور مجھے ان دونوں کی آواز سنائی نہیں دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ روانہ ہو جاؤ! تو ہم خواتین سے دائیں بائیں پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ بعد میں راستے میں ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، تو جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو کیا میں ان دونوں سے محبت نہ رکھوں؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15071]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (2656)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح

Majma al-Zawa'id Hadith 15071 in Urdu