مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
265. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16052
عَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - قَالَ: لَمَّا أَنْشَأَ النَّاسُ الْحَجَّ سَنَةَ تِسْعٍ، قَدِمَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْلِمًا، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوكَ". قَالَ: لَوْ وَجَدُونِي نَائِمًا أَيْقَظُونِي، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مُسْلِمًا، فَرَجَعَ عِشَاءً، فَجَاءَ ثَقِيفٌ يُحْيُونَهُ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَاتَّهَمُوهُ وَأَغْضَبُوهُ، وَأَسْمَعُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَحْتَسِبُ ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا أَسْحَرُوا وَاطَّلَعَ الْفَجْرُ قَامَ عُرْوَةُ عَلَى غُرْفَةٍ فِي دَارِهِ فَأَذَّنَ لِلصَّلَاةِ وَتَشَهَّدَ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَثَلُ عُرْوَةَ مِثْلُ صَاحِبِ يَاسِينَ ؛ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى اللَّهِ فَقَتَلُوهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ، وَكِلَاهُمَا مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ، وَكِلَاهُمَا مُرْسَلٌ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سن 9 ہجری میں، جب لوگ حج کے لئے گئے، تو سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ تمہیں قتل کر دیں گے، انہوں نے عرض کی: اگر وہ لوگ مجھے سویا ہوا پائیں، تو مجھے بیدار کر دیتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی، وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے، وہ رات کے وقت واپس پہنچے، ثقیف قبیلے کے لوگ آئے اور انہیں سلام کرنے لگے، انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی، تو ان لوگوں نے ان پر تہمت لگائی اور ان کے خلاف غصے کا اظہار کیا اور انہیں ایسی باتیں سنائیں کہ جن کے بارے میں وہ توقع نہیں کر رہے تھے، پھر وہ لوگ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے، جب سحری کا وقت ہوا اور صبح صادق طلوع ہونے لگی، تو سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے بالاخانے پر کھڑے ہوئے، انہوں نے نماز کے لئے اذان دی اور شہادت کے کلمات پڑھے، تو ثقیف قبیلے کے ایک شخص نے انہیں تیر مار کر انہیں شہید کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عروہ کی مثال یٰسین کے ساتھی کی مانند ہے کہ جس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی تھی، تو اُن لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی گئی ہے، یہ دونوں روایات ”مرسل“ ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 16052]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی گئی ہے، یہ دونوں روایات ”مرسل“ ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 16052]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (147/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہما حسن ولکنہما مرسلان۔
Majma al-Zawa'id Hadith 16052 in Urdu