مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابٌ فِي النَّوْمِ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا .
عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت کرنا
حدیث نمبر: 1759
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا نَوَّامًا وَكُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَيَّ ثِيَابِي نِمْتُ - أَوْ قَالَ: فَأَنَامُ [ قَبْلَ الْعِشَاءِ ] فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَرَخَّصَ لِي.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جسے نیند بہت آتی تھی میں مغرب کی نماز ادا کر لیتا تھا اور میں نے (باہر جانے کے وقت پہنے والا) لباس پہنا ہوتا تھا اور پھر بھی میں سو جاتا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) پھر بھی میں عشاء سے پہلے سو جاتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 1759]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے، اور وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 1759]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 1759 in Urdu