🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
70. بَابُ النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ .
مسجد میں سو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2023
عَنْ أَسْمَاءَ - يَعْنِي بِنْتَ زَيْدٍ - أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ أَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَكَانَ هُوَ بَيْتُهُ يَضْطَجِعُ فِيهِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ فَنَكَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا؟" قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَنَامُ؟ وَهَلْ لِي بَيْتٌ غَيْرُهُ؟.
قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْخِلَافَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ رَوَى بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدہ اسماء بنت زید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے فارغ ہوا کرتے تھے تو مسجد میں آ جاتے تھے وہ مسجد ہی ان کا گھر تھی وہ اس میں لیٹ جاتے تھے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مسجد میں سوئے ہوئے پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے انہیں بلایا یہاں تک کہ وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سویا ہوا نہیں دیکھ رہا ہوں؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر میں کہاں سوؤں؟ میرا اس کے علاوہ اور کوئی گھر ہے؟ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جو آگے چل کر خلافت سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی اگر اللہ نے چاہا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن ہوشب ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2023]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔

Majma al-Zawa'id Hadith 2023 in Urdu