مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. بَابٌ فِي الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ وَالْإِشَارَةِ .
نماز کے دوران کلام کرنا یا اشارہ کرنا
حدیث نمبر: 2437
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا فَبَنَى عَلَى مَا صَلَّى.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يَأْتِي أَحْيَانًا بِالْمَنَاكِيرِ قَالَ الذَّهَبِيُّ: هُوَ مِنَ الْعِبَادِ صَدُوقٌ فِي نَفْسِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يَأْتِي أَحْيَانًا بِالْمَنَاكِيرِ قَالَ الذَّهَبِيُّ: هُوَ مِنَ الْعِبَادِ صَدُوقٌ فِي نَفْسِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران بھول کر کلام کر لیا تو آپ نے جو نماز پہلے ادا کر لی تھی، اس پر بناء قائم کی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن مہدی ہے ابوحاتم کہتے ہیں: یہ بعض اوقات منکر روایات نقل کرتا ہے ذہبی فرماتے ہیں: یہ نیک لوگوں میں سے ایک ہے، اور یہ اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2437]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن مہدی ہے ابوحاتم کہتے ہیں: یہ بعض اوقات منکر روایات نقل کرتا ہے ذہبی فرماتے ہیں: یہ نیک لوگوں میں سے ایک ہے، اور یہ اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2437]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
Majma al-Zawa'id Hadith 2437 in Urdu