مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
188. بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ " .
نماز کا آغاز کس چیز سے کیا جائے؟
حدیث نمبر: 2625
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَدْعُو: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يَنْبَغِي لِكَرَمِ وَجْهِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا"، ثُمَّ شَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَصَرِهِ حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ قَالَ:" هِيَ لَكَ بِخَاتَمِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَثَلُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اس دوران آپ نے کسی شخص کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو جو ایسی ہو جو ہمارے پروردگار کی عظمت کے لائق ہو“۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا: یہ کلمات پڑھنے والا شخص کون تھا؟ میں نے بارہ فرشتوں کو ان کلمات کی طرف لپکتے ہوئے دیکھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فرشتوں کی طرف اپنی نگاہ رکھی یہاں تک کہ وہ فرشتے حجاب کے پیچھے چھپ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن یہ کلمات اپنی مہر سمیت تمہیں ملیں گے اور اس کی مانند ملے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک محمد بن یزید بن سنان راوی ہے، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2625]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک محمد بن یزید بن سنان راوی ہے، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 2625]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 2625 in Urdu