مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا 3230 عَنْ أَيُّوبَ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ : وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى .
عید سے پہلے اور اس کے بعد (نفل) نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3238
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي يَوْمِ الْأَضْحَى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَخَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ مَالَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى كَثُرَ مَعَ بِلَالٍ الْمَتَاعُ قُلْتُ: لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کی، پھر آپ نے مردوں کو خطبہ دیا، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے انہیں خطبہ دیا اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دی، یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا سامان اکٹھا ہو گیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”صحیح“ اور دوسری کتابوں میں ایک حدیث منقول ہے، جو اس حدیث کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3238]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3238]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ
Majma al-Zawa'id Hadith 3238 in Urdu