مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ .
خواتین کا جنازے کے ساتھ جانا
حدیث نمبر: 4128
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِنَازَةً، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى لَمْ يَرَهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا جب آپ نماز جنازہ شروع کرنے لگے تو آپ نے توجہ کی، تو ایک عورت موجود تھی آپ کے حکم کے تحت اسے وہاں سے بھجوا دیا گیا یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تو پھر آپ آگے بڑھے آپ نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سالم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 4128]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سالم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 4128]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 4128 in Urdu