مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ .
عرفہ کے دن روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 5140
وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفْطِرِي! فَقَالَتْ: أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ"؟!.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ بَلْ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَا أَعْلَمُهُ لَقِيَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ بَلْ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَا أَعْلَمُهُ لَقِيَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عطاء خراسانی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور ان پر پانی چھڑکا جا رہا تھا سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم روزہ ختم کر دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عرفہ کے دن کا روزہ اس سے پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ عطاء نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے بلکہ یحیی بن معین کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اس نے کسی بھی صحابی سے ملاقات نہیں کی ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصيام/حدیث: 5140]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ عطاء نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے بلکہ یحیی بن معین کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اس نے کسی بھی صحابی سے ملاقات نہیں کی ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصيام/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (128/6)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
Majma al-Zawa'id Hadith 5140 in Urdu