مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ صِيَامِ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ .
ہفتے اور اتوار کے دن روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 5199
وَعَنْ كُرَيْبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي نَاسٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا: أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صَوْمًا؟ فَقَالَتِ: السَّبْتُ وَالْأَحَدُ وَيَقُولُ:" هُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
کریب بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سے دن زیادہ روزے رکھا کرتے تھے؟ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتے اور اتوار کے دن آپ یہ فرماتے تھے: یہ دونوں دن مشرکین کی عید (کے دن ہیں)، تو مجھے یہ پسند ہے کہ میں ان کے برخلاف کروں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصيام/حدیث: 5199]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصيام/حدیث: 5199]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (283/22 و402)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 5199 in Urdu