مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاخْتِصَاءِ .
خصی ہو جانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7321
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ تَشُقُّ عَلَيَّ هَذِهِ الْعُزْبَةُ فِي الْمَغَازِي فَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَأَخْتَصِي؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ عَلَيْكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهَا مَخْفَرَةٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جنگوں کے دوران اکیلا رہنا مجھ پر گراں گزرتا ہے، تو آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! بلکہ اے ابن مظعون! تم پر روزے رکھنا لازم ہے، کیونکہ یہ شہوت کو ختم کر دیں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7321]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7321]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8320)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7321 in Urdu