مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابٌ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ شُهُودٍ .
گواہوں کے بغیر نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 7528
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَلَقِيتُهُ، وَكَلَّمْتُهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:" نُوَيْبِتَةٌ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ:" لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ فَقَالَ: أَعِرْنِي حِذَاءَكَ فَقُلْتُ: لَا أُعِيرُكَهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ قَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ: لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عروہ بن رویم لخمی، سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: چھوٹا معاملہ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بھلائی کا چھوٹا معاملہ یا خرابی کا چھوٹا معاملہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! بلکہ بھلائی کا چھوٹا معاملہ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک مرتبہ میں سفر پر اپنے چچا کے ساتھ روانہ ہوا، انہیں جوتوں کی ضرورت پیش آئی، تو انہوں نے مجھے کہا: تم جو تے عاریت کے طور پر مجھے دے دو، میں نے کہا: میں یہ آپ کو عاریت کے طور پر نہیں دوں گا، اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کرتے ہیں (تو پھر دے دوں گا) انہوں نے کہا: میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی جب ہم اپنے گھر واپس پہنچے، تو انہوں نے مجھے میرے جوتے بھجوا دیے اور بولے: تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اس عورت میں بھلائی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جو اس سے پہلے گمشدہ چیز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ یزید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7528]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ یزید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7528]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7528 in Urdu