مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجِمَاعِ وَالْقَوْلِ عِنْدَهُ وَالتَّسَتُّرِ .
صحبت کرنے، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7557
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَسْتَتِرِ اسْتَحْيَتِ الْمَلَائِكَةُ فَخَرَجَتْ فَإِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ كَانَ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَصِيبٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے، تو اسے پردہ کر لینا چاہیے اگر وہ پردہ نہیں کرے گا، تو فرشتے اس سے حیا کرتے ہوئے باہر چلے جائیں گے، اور اگر ان دونوں کے ہاں اولاد ہو گی، تو شیطان کا اس میں سے حصہ ہو گا“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7557]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1448) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (178)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7557 in Urdu