🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
74. بَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ .
خواتین کے ساتھ طرز سلوک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7682
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهَا بِحَدِيثٍ، وَهُوَ مَعَهَا فِي لِحَافٍ فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا حَدَّثْتَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ لَظَنَنْتُ أَنَّهُ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا حَدِيثُ خُرَافَةَ يَا عَائِشَةُ؟" قَالَتِ: الشَّيْءُ إِذَا لَمْ يَكُنْ قِيلَ حَدِيثُ خُرَافَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ حَدِيثُ خُرَافَةَ، كَانَ خُرَافَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ سَبَتْهُ الْجِنُّ، وَكَانَ مَعَهُمْ فَإِذَا اسْتَرَقُوا السَّمْعَ أَخْبَرُوهُ فَخَبَّرَ بِهِ النَّاسَ فَيَجِدُونَهُ كَمَا قَالَ".
وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک بات بیان کی آپ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ لحاف میں موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ نے مجھے یہ بات بیان نہ کی ہوتی، تو میں یہی گمان کرتی کہ یہ خرافہ کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرافہ کی بات کیا ہوتی ہے؟ اے عائشہ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کوئی ایسی چیز کہ جو نہ ہو اس کے بارے میں یہ کہا: جاتا ہے کہ یہ خرافہ کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے سچی بات خرافہ کی بات ہوتی ہے خرافہ بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جسے جنوں نے قید کر دیا تھا وہ ان کے ساتھ رہا جب وہ کوئی اطلاع چوری چھپے سنتے تھے، تو وہ اسے بتا دیتے تھے خرافہ لوگوں کو بتا دیتا تھا تو لوگ اس صورت حال کو اسی طرح پاتے تھے جس طرح اس نے بیان کیا ہوتا تھا۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو قدح کا باعث نہیں ہے۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7682]

الحكم على الحديث: إسنادہ أحمد: صحیح، وإسنادہ طبرانی ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 7682 in Urdu