صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2049. إن بني هشام بن المغيرة استأذنوني في أن ينكحوا ابنتهم ....
بیشک بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی ....
حدیث نمبر: 2046
«إن بني هشام بن المغيرة استأذنوني في أن ينكحوا ابنتهم علي بن أبي طالب فلا آذن ثم لا آذن ثم لا آذن إلا أن يريد ابن أبي طالب أن يطلق ابنتي وينكح ابنتهم فإنما هي بضعة مني يريبني ما أرابها ويؤذيني ما آذاها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کر دیں، لیکن میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، سوائے اس کے کہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے دیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کر لیں، کیونکہ وہ (فاطمہ) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو بات اسے ناگوار گزرتی ہے وہ مجھے بھی ناگوار گزرتی ہے اور جو بات اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے بھی تکلیف دیتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ب/حدیث: 2046]
”بیشک بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کر دیں، لیکن میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا، سوائے اس کے کہ ابن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے دیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کر لیں، کیونکہ وہ (فاطمہ) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو بات اسے ناگوار گزرتی ہے وہ مجھے بھی ناگوار گزرتی ہے اور جو بات اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے بھی تکلیف دیتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- إن ب/حدیث: 2046]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق د ت هـ] عن المسور بن مخرمة. الإرواء 2676.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
Sahih al-Jami' al-Saghir wa Ziyadatuhu Hadith 2046 in Urdu