🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
23. مالك بن التيهان أبو الهيثم الأنصاري " عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين، من أخباره "
سیدنا مالک بن تیہان، ابوالہیثم انصاری، رضی اللہ عنہ، عقبہ اور بدر میں شریک، مدینہ میں مقیم رہے یہاں تک کہ سن بیس ہجری میں وہیں وفات پائی؛ ان کے احوال میں سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16619
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَاعَةٍ لَا يَخْرُجُ فِيهَا وَلَا يَلْقَاهُ فِيهَا أَحَدٌ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّظَرِ فِي وَجْهِهِ وَالتَّسْلِيمِ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكَ يَا عُمَرُ؟» ، قَالَ: الْجُوعُ، قَالَ: «وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ الَّذِي تَجِدُ» ، فَانْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الْخَيْلِ وَالْشِيَاهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ، فَأَتَوْهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ وَوَجَدُوا امْرَأَتَهُ فَقَالَ: «أَيْنَ صَاحِبُكُمْ؟» ، قَالَتِ: انْطَلَقَ غُدْوَةً ليَسْتَعْذِبَ مِنَ الْمَاءِ مِنْ قَنَاةِ بَنِي فُلَانٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ بِقِرْبَةٍ ثُمَّ وَضَعَهَا، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْزَمُهُ وَيُفَدِّيهِ بِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِمْ إِلَى ظِلِّ حَدِيقَتِهِ فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ فَجَاءَ بِعِذْقٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلَّا تَنَقَّيْتَ مِنْ رُطَبِهِ؟» ، فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ تُحِسُّونَ مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هَذَا الظِّلُّ الْبَارِدُ وَالرُّطَبُ الْبَادِ عَلَيْهِ الْمَاءُ» ، انْطَلِقْ فَضَعْ لَهُمْ طَعَامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْبَحْ ذَاتَ دَرٍّ» ، فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَأَكَلُوا
فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ خَادِمٍ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَائْتِنَا» ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَانِ لَيْسَ لَهُمَا ثَالِثٌ، فَقَالَ: «اخْتَرْهُمَا» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ خِرْ لِي، فَقَالَ: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ، خُذْ هَذَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي، وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا» ، فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَحَدَّثَهَا حَدِيثَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا شَيْءٌ هَمَّا بِهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ مِنْ عِتْقِهِ، قَالَ: فَهُوَ عَتِيقٌ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «إِنَّمَا يُسْأَلُ عَنْهُ مَنْ لَمْ يُسَمِّ اللهَ عَلَى أَوَّلِهِ وَلَمْ يَحْمَدِ اللهَ عَلَى آخِرِهِ، فَأَمَّا مَنْ سَمَّى فِي أَوَّلِهِ وَحَمِدَ فِي آخِرِهِ فَقَدْ أَدَّى شُكْرَهُ»
عبدالملک بن عمیر رحمہ اللہ، ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں نکلے جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلتے تھے اور نہ کوئی آپ سے ملتا تھا، تو ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تمہیں کس چیز نے نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، آپ کا چہرہ دیکھنے اور آپ کو سلام کرنے کے لیے نکلا ہوں۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ عمر آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! تمہیں کس چیز نے نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا: بھوک نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی وہی کچھ محسوس ہوا ہے جو تمہیں محسوس ہوا ہے، چلو ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن التیہان انصاری کے پاس چلیں،“ اور وہ گھوڑوں اور بکریوں کے مالک تھے مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا۔ وہ ان کے پاس آئے تو انہیں نہ پایا، بلکہ ان کی بیوی کو پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: وہ صبح ہی فلاں قبیلے کی نہر سے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ ایک مشکیزہ لے کر آئے، اسے رکھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور اپنے ماں باپ آپ پر قربان کرنے لگے، پھر انہیں لے کر اپنے باغ کے سائے میں گئے، ان کے لیے چٹائی بچھائی، پھر ایک کھجور کے درخت کی طرف گئے اور ایک خوشہ لے آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کی تازہ کھجوریں چن نہیں لائے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں چاہتا تھا کہ آپ اس کی تازہ اور نیم پکی دونوں اقسام چکھیں۔ چنانچہ انہوں نے کھایا اور اس پانی سے پیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ اسی نعمت میں سے ہے جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا، یہ ٹھنڈا سایہ، تازہ کھجور اور ٹھنڈا پانی ہے۔“ جاؤ اور ان کے لیے کھانا تیار کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والی ذبح نہ کرنا۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے ایک بکری کا بچہ یا میمنہ ذبح کیا، پھر انہیں لے آئے، انہوں نے کھایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو ہمارے پاس آنا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو سر (غلام) آئے جن کے علاوہ کوئی تیسرا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے چن لو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہی میرے لیے منتخب فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشورہ دینے والا امانت دار ہوتا ہے، یہ لے لو، میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور اس کے ساتھ بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“ وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات انہیں بتائی، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری کرنے کے لیے اسے آزاد کر دینے سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے کہا: تو وہ آزاد ہے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: ”اس (نعمت) کے بارے میں تو صرف اس شخص سے پوچھا جائے گا جس نے اس کی ابتدا میں اللہ کا نام نہیں لیا اور اختتام پر اللہ کی حمد نہیں کی، رہا وہ شخص جس نے شروع میں (بسم اللہ) کہا اور آخر میں (الحمد للہ) کہا تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16619]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 256، حدیث 570»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16619 in Urdu