المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. مالك بن التيهان أبو الهيثم الأنصاري " عقبي بدري لم يزل بالمدينة حتى توفي بها سنة عشرين، من أخباره "
سیدنا مالک بن تیہان، ابوالہیثم انصاری، رضی اللہ عنہ، عقبہ اور بدر میں شریک، مدینہ میں مقیم رہے یہاں تک کہ سن بیس ہجری میں وہیں وفات پائی؛ ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 16620
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا خَلْفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا؟» ، قَالَا: الْجُوعُ، قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، قُومُوا» ، فَقَامُوا مَعَهُ وَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ لَيْسَ ثَمَّ، وَإِذَا هُوَ بِالْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» ، قَالَتِ: انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَيْهِ قِرْبَةٌ مِنْ مَاءٍ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَكْرَمُ مِنْ أَضْيَافِنَا، قَالَ: فَعَلَّقَ الْقِرْبَةَ وَقَطَعَ لَهُمْ عَذْقًا فِيهِ بُسْرٌ وَرُطَبٌ وَتَمْرٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ انْتَقَيْتَ؟» ، قَالَ: تَخَيَّرُوا يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى أَعْيُنِكُمْ، قَالَ: وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» ، فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَبْتُمْ مِنْ هَذَا النَّعِيمِ»
یزید بن کیسان رحمہ اللہ، ابوحازم سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا؟“ ان دونوں نے عرض کیا: بھوک نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے بھی وہی چیز نکال لائی ہے جو تم دونوں کو نکال لائی، چلو۔“ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑے اور ایک انصاری کے پاس آئے، انصاری وہاں موجود نہ تھے بلکہ ان کی بیوی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ ابھی وہ اسی حال میں تھے کہ انصاری آ گئے، ان پر پانی کا ایک مشکیزہ تھا، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا: اللہ اکبر، کوئی شخص میرے مہمانوں سے بڑھ کر معزز مہمان نہیں رکھتا۔ پھر انہوں نے مشکیزہ لٹکا دیا اور ان کے لیے ایک خوشہ کاٹا جس میں کچی، تازہ پکی اور خشک کھجوریں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم چن کر کیوں نہیں لائے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود اپنی آنکھوں سے پسند کر لیں۔ پھر انہوں نے چھری پکڑی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”دودھ والی سے بچنا۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے (بکری) ذبح کی، انہوں نے کھایا، جب فارغ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم سے اس نعمت کے بارے میں قیامت کے دن ضرور پوچھا جائے گا، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، پھر تم اس وقت تک واپس نہیں گئے جب تک اس نعمت کو حاصل نہ کر لیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16620]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 257، حدیث 571»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 16620 in Urdu