المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
198. ما أسند معن بن يزيد السلمي
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 17123
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي» ، فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ فَآذَنَّاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مَقْصَرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، أَوْ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ، وَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، وَقُلْنَا: خَصَّنَا اللهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ، وَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَكَلَّمَنَا وَأَمَرَنَا وَعَلَّمَنَا
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی مسجدوں میں جمع ہو جایا کرو، پھر جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دو۔“ ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے یہاں تک کہ ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم میں سے ایک بولنے والے نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس سے آگے تعریف کی کوئی حد نہیں اور جس کے پیچھے کوئی راستہ نہیں، یا اسی طرح کے الفاظ کہے۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کر دیا اور کہا: اللہ نے ہمیں یہ اعزاز بخشا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور یہ اور وہ ہوا۔ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں قبیلے کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تشریف لائے یہاں تک کہ اسی جگہ یا اس کے قریب بیٹھ گئے جہاں پہلے بیٹھے تھے، پھر فرمایا: ”بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو وہ چاہے اپنے آگے رکھے اور جو چاہے اپنے پیچھے رکھے، اور بلاغت میں سے کچھ جادو کی مانند اثر رکھنے والا بھی ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، ہم سے گفتگو کی، ہمیں حکم دیا اور ہمیں تعلیم دی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17123]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 442، حدیث 1074»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17123 in Urdu