🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

198. ما أسند معن بن يزيد السلمي
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ کی مرویات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17118
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى النَّهْشَلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ" دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «لَقَدْ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ وَلَقَدْ أَعْرَضْتَ، تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُصَلِّي الْخَمْسَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَأْتِيَهُ النَّاسُ إِلَيْكَ فَاكْرَهَهُ لَهُمْ»
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک بدوی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی، اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سوال میں اختصار کیا ہے اور پھر بھی وسیع بات پوچھ لی ہے: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، پانچوں نمازیں پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، اور جو بات تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہ ان کے ساتھ کرنا بھی ناپسند رکھو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17118]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 440، حدیث 1069»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17119
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَأَبِي، وَجَدِّي، وَخَطَبَ عَلِيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَفَلَجَنِي، وَكَانَ أَبِي جَاءَ بِدِينَارَيْنِ يَتَصَدَّقُ بِهِمَا فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رَجُلٍ فَأَخَذْتُهُمَا فَأَتَيْتُهُ بِهِمَا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ، وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ»
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے، میرے والد نے اور میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح پیغام دے کر کرایا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مقدمہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کامیاب قرار دیا۔ اور میرے والد یزید دو دینار لے کر آئے تاکہ ان سے صدقہ کریں، انہوں نے وہ ایک شخص کے پاس رکھ دیے، میں نے وہ لے کر انہیں اپنے والد کو دے دیے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ تمہیں دینے کا نہیں تھا۔ تو میں نے یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یزید! تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی، اور اے معن! تمہیں وہ ملے گا جو تم نے لے لیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17119]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 441، حدیث 1070»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «خَاصَمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفْلَجَنِي، وَخَطَبَ عَلِيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَبَايَعْتُهُ أَنَا وَجَدِّي»
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مقدمہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے نکاح کا پیغام دیا تو میری شادی کرا دی، اور میں نے اور میرے دادا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17120]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 441، حدیث 1071»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17121
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَجَدِّي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَأَفْلَجَنِي، وَخَطَبَ عَلِيَّ فَأَنْكَحَنِي» ، فَقَالَ مَعْنٌ: «لَا تَحِلُّ غَنِيمَةٌ حَتَّى تُقْسَمَ، وَلَا تُقْبَلُ مِنْهَا حَتَّى تُقْسَمَ لِلنَّاسِ»
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اور میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مقدمہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے نکاح کا پیغام دیا تو میری شادی کرا دی۔ سیدنا معن رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: غنیمت اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک وہ تقسیم نہ ہو جائے، اور اس میں سے کچھ لینا جائز نہیں جب تک وہ لوگوں کے لیے تقسیم نہ ہو جائے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17121]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 442، حدیث 1072»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17122
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا فَهِدُ بْنُ عَوْفٍ أَبُو رَبِيعَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا بِأَرْضِ الرُّومِ فَأُمِّرَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، قَالَ: فَأَصَبْتُ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرٌ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَخَمَّسَهَا، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نَفْلَ إِلَّا مِنَ الْخُمُسِ» لَأَعْطَيْتُكَ، قَالَ: فَعَرَضَ عَلِيَّ مِنْ نَصِيبِهِ، فَقُلْتُ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ
ابو جویریہ جرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم سرزمین روم میں تھے، تو ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو امیر بنایا گیا جو بنو سلیم سے تھے، جنہیں معن بن یزید سلمی کہا جاتا تھا۔ ابو جویریہ کہتے ہیں: مجھے ایک سرخ مرتبان ملا جس میں دینار تھے، میں انہیں لے کر آیا تو انہوں نے اس کا پانچواں حصہ نکالا، اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا: ”نفل صرف خمس میں سے دیا جاتا ہے“ تو میں تمہیں پورا دے دیتا۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے اپنے حصے میں سے مجھے پیش کیا، تو میں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17122]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 442، حدیث 1073»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17123
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي» ، فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ فَآذَنَّاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مَقْصَرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، أَوْ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ، وَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، وَقُلْنَا: خَصَّنَا اللهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ، وَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَكَلَّمَنَا وَأَمَرَنَا وَعَلَّمَنَا
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی مسجدوں میں جمع ہو جایا کرو، پھر جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دو۔“ ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے یہاں تک کہ ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم میں سے ایک بولنے والے نے کہا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس سے آگے تعریف کی کوئی حد نہیں اور جس کے پیچھے کوئی راستہ نہیں، یا اسی طرح کے الفاظ کہے۔ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کر دیا اور کہا: اللہ نے ہمیں یہ اعزاز بخشا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور یہ اور وہ ہوا۔ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں قبیلے کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تشریف لائے یہاں تک کہ اسی جگہ یا اس کے قریب بیٹھ گئے جہاں پہلے بیٹھے تھے، پھر فرمایا: ”بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو وہ چاہے اپنے آگے رکھے اور جو چاہے اپنے پیچھے رکھے، اور بلاغت میں سے کچھ جادو کی مانند اثر رکھنے والا بھی ہوتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے، ہم سے گفتگو کی، ہمیں حکم دیا اور ہمیں تعلیم دی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17123]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 442، حدیث 1074»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں