🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
389. مطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب بن هشام بن عبد مناف " ويقال: عبد المطلب، والصواب: المطلب، ومات بدمشق، وكان يسكن بها، فتوفي سنة إحدى وستين "
سیدنا مطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: عبدالمطلب، صحیح نام مطلب ہے؛ دمشق میں مقیم رہے اور وہیں اکسٹھ ہجری میں وفات پائی)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17811
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: اجْتَمَعَ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالُوا: أَلَا تَسْأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلْ فِيكُمْ مَا جَعَلَ فِي بَنِي فُلَانٍ، يَجْعَلْ فِيكُمُ السِّعَايَةَ؟ فَلَقُوا عَلِيًّا فَكَلَّمُوهُ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى ذَلِكَ لَكُمْ وَرَسُولُهُ أَنْ يَجْعَلَ لَكُمْ أَوْسَاخَ أَيْدِي النَّاسِ - أَوْ قَالَ: غُسَالَةَ أَيْدِي النَّاسِ - قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ لِأَبِيهِ: أَرْسِلْنِي، فَأَرْسَلَ الْعَبَّاسُ ابْنَهُ الْفَضْلَ، فَأَتَيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْنَا، فَخَصَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تُصَرِّرَانِ هَهُنَا؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَعَثَنَا قَوْمُكَ وَبَنُو عَمِّكَ لِتَجْعَلَ فِيهِمْ مَا جَعَلْتَ فِي النَّاسِ مِنَ السِّعَايَةِ، فَقَالَ: «إِنَّ» اللهَ أَبَى ذَلِكَ لَكُمْ وَرَسُولُهُ أَنْ تَأْكُلُوا أَوْسَاخَ - أَوْ قَالَ: غُسَالَةَ - أَيْدِي النَّاسِ"
سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بنو عبدالمطلب اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کیوں نہیں کرتے کہ آپ تمہیں بھی وہ ذمہ داری دیں جو آپ نے فلاں قبیلے کو دی ہے، یعنی تمہیں زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر فرما دیں؟ چنانچہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا: اللہ عزوجل اور اس کے رسول نے تمہارے لیے اس بات سے انکار کیا ہے کہ تمہیں لوگوں کے ہاتھوں کا میل - یا کہا: لوگوں کے ہاتھوں کا دھوون - دیا جائے۔ عبدالمطلب (بن ربیعہ) نے اپنے والد سے کہا: مجھے بھیج دیجیے، اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے فضل کو بھیجا، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اندر داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک سے تنہا ملاقات کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کیا بات دل میں چھپائے ہوئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی قوم اور آپ کے چچا زاد بھائیوں نے ہمیں بھیجا ہے کہ آپ انہیں بھی زکوٰۃ کی وصولی کے کام پر مقرر فرما دیں جیسے آپ نے دوسرے لوگوں کو مقرر فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ اور اس کے رسول نے تمہارے لیے اس بات سے انکار کیا ہے کہ تم لوگوں کے ہاتھوں کا میل“ - یا فرمایا: ”دھوون - کھاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17811]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 287، حدیث 677»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17811 in Urdu