المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب تأويل قوله أولئك مبرءون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم
اللہ تعالیٰ کے فرمان ’یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو کہی جاتی ہیں، ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے‘ کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19562
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي قَوْلِهِ:" {أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ}، قَالَ: هَهُنَا بَرِئَتْ عَائِشَةُ، {لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} [الأنفال: ٧٤] "
عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہی وہ لوگ ہیں جو ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری ہیں“: یہاں سیدہ عائشہ بری قرار پائیں۔ ”ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19562]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 162، حدیث 258»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 19562 in Urdu