المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
373. هشام بن عروة، عن فاطمة باب
ہشام بن عروہ کی فاطمہ سے روایات — باب
حدیث نمبر: 20713
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلِيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمُ الَّذِي عَاهَدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدِمَتْ عَلِيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ صِلِي أُمُّكِ»
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری والدہ اس زمانے میں میرے پاس آئیں جب وہ مشرکہ تھیں، اور یہ اس عہد اور مدت میں تھا جس میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر رکھا تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ صلہ رحمی کی خواہش مند ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20713]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 126، حدیث 342»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 20713 in Urdu