🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
541. فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤي بن غالب
سیدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤی بن غالب رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21270
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي عُثْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ، قَالَتْ: أَقْبَلَتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا، فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ، فَتَنَاوَلْتُ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ، فَقَدِمْتُ بِكَ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمَيَّ بِكَ، فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِكَ، وَدَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ، وَتَفَلَ فِي فِيكَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ، وَيَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقْماءَ» ، فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِئَتْ يَدَكَ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ اپنی والدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں تجھے حبشہ کی سرزمین سے لے کر آ رہی تھی، یہاں تک کہ جب میں مدینہ سے ایک یا دو راتوں کی دوری پر تھی تو میں نے تیرے لیے کچھ پکایا، تو لکڑیاں ختم ہو گئیں، میں لکڑیاں تلاش کرنے نکلی، تو میں نے ہانڈی پکڑی جو تیرے بازو پر الٹ گئی، پھر میں تجھے لے کر مدینہ پہنچی، تو میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ محمد بن حاطب ہے، اور یہ پہلا شخص ہے جس کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیرا، اس کے لیے برکت کی دعا کی، اس کے منہ میں تھوک ڈالا، پھر اس کے ہاتھ پر تھوکنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔“ تو میں تجھے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہیں اٹھی تھی کہ تیرا ہاتھ ٹھیک ہو چکا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21270]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 363، حدیث 902»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21270 in Urdu