المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
541. فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤي بن غالب
سیدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤی بن غالب رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21271
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ مِنْ قِدْرٍ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ جَالِسٍ فِي الْجَبَّانَةِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ» ، ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ، وَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَسَأَلَتْ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ: مَا كَانَ يَقُولُ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِي إِلَّا أَنْتَ»
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی ہانڈی سے کوئی چیز اٹھائی تو میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ مجھے لے کر قبرستان میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کے پاس گئیں اور ان سے کہا: یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لبیک وسعدیک۔“ پھر انہوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھونکنے لگے اور کچھ ایسے الفاظ کہنے لگے جو مجھے معلوم نہ ہو سکے، تو میں نے بعد میں اپنی والدہ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21271]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 364، حدیث 903»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21271 in Urdu