🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
546. أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن فاطمة
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21281
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا ألْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَتَسَخَّطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ» فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فائْتِينِي» فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص نے اسے حتمی طلاق دے دی جبکہ وہ خود غائب تھا، تو اس نے اپنا وکیل کچھ جو دے کر بھیجا، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کچھ حق نہیں، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے یہ بات ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”وہ ایسی عورت ہے جس کے ہاں میرے صحابہ آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو، کیونکہ وہ ایک نابینا آدمی ہے، تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو، اور جب حلال ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں حلال ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم بن حذیفہ نے مجھے پیغامِ نکاح بھیجا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک ابوجہم کا تعلق ہے تو وہ اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا، اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ نادار ہے، اس کے پاس مال نہیں، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ فاطمہ کہتی ہیں: مجھے یہ ناپسند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ تو اللہ نے اس میں میرے لیے خیر رکھ دی اور مجھ پر (اس نکاح کی وجہ سے) رشک کیا جانے لگا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21281]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 367، حدیث 913»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21281 in Urdu