🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
546. أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن فاطمة
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21282
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي، وَكَانَ يَرْزُقُنِي طَعَامًا فِيهِ سَيِّئٌ، وَكُنْتُ امْرَأَةً لَيْسَ لِي أَحَدٌ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ كَانَتْ لِي نَفَقَةٌ فَلَأَطْلُبَنَّها، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا نَفَقَةَ لَكِ، وَلَا سُكْنَى، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى، فَإِذَا حَلَلْتِ فَائْذِنِينِي» فَلَمَّا حَلَلْتُ آذَنْتُهُ، فَقَالَ: «مَنْ خَطَبَكِ؟» قُلْتُ: مُعَاوِيَةُ، وَرَجُلٌ آخَرُ قَالَ: «أَمَّا مُعَاوِيَةُ فغلامٌ مِنْ غِلْمَانِ قُرَيْشٍ لَيْسَ بِيَدِهِ شَيْءٌ أَوْ لَا شَيْءَ لَهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَصَاحِبُ شَرٍّ، فَانْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ» فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ: «انْكِحِيهِ» فَنَكَحْتُهُ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان رحمہما اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی، اور وہ (سابقہ شوہر) مجھے کچھ خراب سا کھانا بھیجا کرتا تھا، اور میں ایک ایسی عورت تھی جس کا کوئی سہارا نہ تھا، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میرا نفقہ حق ہے تو میں ضرور اسے طلب کروں گی، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے نہ نفقہ ہے نہ رہائش، ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہے، اور جب حلال ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ جب میں حلال ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے پیغامِ نکاح بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: معاویہ اور ایک اور آدمی نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے تو وہ قریش کے نوجوانوں میں سے ایک نوجوان ہے، اس کے پاس کوئی مال نہیں، اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ برائی والا آدمی ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔“ مجھے یہ ناپسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی سے نکاح کر لو۔“ تو میں نے اس سے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21282]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 368، حدیث 914»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21282 in Urdu