المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
546. أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن فاطمة
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21286
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَطَلَّقَهَا ألْبَتَّةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَهْلِهِ تَبْتَغِي النَّفَقَةَ، فَقَالُوا: لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَتُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى إِنْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ لَمْ يَرَ شَيْئًا، فَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ» فَلَمَّا حَلَّتْ ذَكَرَهَا رِجَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ أَنْتِ مِنْ أُسَامَةَ؟» وَكَأَنَّ أَهْلَهَا كَرِهُوا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا أَنْكِحُ إِلَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَتْهُ
ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بنو مخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، تو اس نے انہیں حتمی طلاق دے دی، تو انہوں نے اس کے گھر والوں کے پاس نفقہ طلب کرنے کے لیے پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: تمہارا ہم پر کوئی نفقہ نہیں، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ان پر کوئی نفقہ نہیں، اور تم پر عدت ہے، تم ام شریک کے ہاں منتقل ہو جاؤ۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک کے ہاں تو ابتدائی مہاجرین میں سے اس کے بھائی آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ، کیونکہ وہ ایک نابینا آدمی ہے، اگر تم اپنے کپڑے اتارو تو وہ کچھ نہیں دیکھے گا، تو اپنے معاملے میں ہمیں نظرانداز نہ کرنا۔“ جب وہ حلال ہوئیں تو کئی لوگوں نے انہیں پیغامِ نکاح بھیجا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسامہ کو کیوں نہیں اپناتیں؟“ گویا ان کے گھر والوں کو یہ بات ناپسند تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسی سے نکاح کروں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چنانچہ انہوں نے اس سے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21286]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 369، حدیث 918»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21286 in Urdu